Posts

دوستی ایک انمول نعمت

Image
دوستی – ایک انمول نعمت زندگی میں انسان کو بہت سے رشتے ملتے ہیں، مگر کچھ رشتے خون کے نہیں بلکہ دل کے ہوتے ہیں، جنہیں ہم دوستی کہتے ہیں۔ دوستی وہ رشتہ ہے جو نہ ذات دیکھتا ہے، نہ رنگ، نہ دولت اور نہ ہی دنیاوی حیثیت۔ ایک سچا دوست وہ ہوتا ہے جو نہ صرف خوشی میں ساتھ ہو بلکہ دکھ میں بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے۔ یہ کہانی ہے دو دوستوں، احمد اور فہد کی۔ دونوں کا تعلق ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ وہ بچپن سے ایک ساتھ کھیلتے، پڑھتے اور خواب دیکھتے آئے تھے۔ ان کی دوستی میں اتنی گہرائی تھی کہ پورے گاؤں میں ان کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ احمد ایک نہایت ذہین طالبعلم تھا جبکہ فہد اپنی خوش اخلاقی اور مددگار طبیعت کے لیے مشہور تھا۔ جب بھی احمد کو کسی مضمون میں مشکل پیش آتی، فہد ہمیشہ اس کی مدد کرتا۔ اور جب فہد کو مالی مسئلہ درپیش ہوتا، تو احمد بنا کسی تامل کے اس کا سہارا بنتا۔ ایک دن احمد کے والد کی طبیعت بہت خراب ہو گئی اور انہیں شہر کے بڑے اسپتال لے جانا پڑا۔ احمد کے پاس نہ پیسے تھے اور نہ ہی کوئی سواری۔ وہ سخت پریشان تھا۔ اسی لمحے فہد کو یہ خبر ملی۔ وہ فوراً اپنے والد کی موٹر سائیکل لے کر آیا اور ک...

ایک سچے فقیر کی کہانی

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے، کسی گاؤں میں ایک نہایت ہی سادہ اور غریب فقیر رہا کرتا تھا۔ اس کا نام احمد تھا۔ وہ دن بھر لوگوں کے گھروں کے باہر بیٹھتا، دعائیں دیتا اور جو کچھ ملتا، شکر ادا کر کے کھا لیتا۔ لیکن وہ فقیر صرف کھانے کے لیے نہیں مانگتا تھا بلکہ لوگوں کے دکھ درد بھی سنتا اور ان کو تسلی دیتا۔ ایک دن گاؤں کے سردار کے گھر میں بیماری پھیل گئی۔ اس کی بیٹی کو ایسا بخار چڑھا جو اُترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ حکیموں نے بہت علاج کیا، لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔ جب سب ناکام ہو گئے تو کسی نے سردار کو مشورہ دیا کہ اُس فقیر احمد سے دعا کرواؤ، ہو سکتا ہے اس کی دعا سے شفا مل جائے۔ سردار نے تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد فقیر کو بلایا۔ احمد فقیر نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا، آسمان کی طرف دیکھا اور دل سے دعا مانگی۔ حیرت انگیز طور پر، اسی رات بچی کی طبیعت بہتر ہونے لگی اور کچھ ہی دنوں میں وہ مکمل صحت یاب ہو گئی۔ سردار نے خوش ہو کر احمد کو بہت سا سونا، چاندی، اور ایک خوبصورت گھر دینے کی پیشکش کی۔ مگر فقیر نے مسکرا کر کہا، "میں اس رب کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے دینے والا بنایا، مانگنے والا نہیں۔ مجھے یہ دنیاوی چیزی...
Image
نیکی کا صلہ ایک دن علی بازار جا رہا تھا جب اُس نے ایک بوڑھی عورت کو سڑک پار کرتے دیکھا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور اُسے سہارا دے کر سڑک پار کروا دی۔ عورت نے دعائیں دیں اور علی آگے بڑھ گیا۔ چند دن بعد علی کو نوکری کی اشد ضرورت تھی۔ ایک انٹرویو کے لیے جب وہ ایک دفتر میں گیا تو حیرت ہوئی کہ انٹرویو لینے والی وہی عورت تھی! اس نے علی کو فوراً نوکری دے دی۔ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ سبق: نیکی کا صلہ ہمیشہ ملتا ہے، چاہے دیر سے ہی کیوں نہ ہو۔
ایک سبق آموز کہانی - سچائی کی طاقت دنیا میں جھوٹ وقتی طور پر کامیابی دے سکتا ہے، مگر سچائی ہمیشہ آخر میں فتح یاب ہوتی ہے۔ ایک گاؤں میں احمد نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ سچ بولتا اور لوگوں کی مدد کرتا۔ ایک دن گاؤں میں ایک چوری ہوئی، اور سب نے بلاوجہ احمد پر شک کیا۔ اس نے سچ بتایا، مگر کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ چند دنوں بعد اصل چور پکڑا گیا۔ سب لوگ شرمندہ ہوئے اور احمد سے معافی مانگی۔ اس دن کے بعد گاؤں میں ہر کوئی سچ بولنے کی اہمیت کو سمجھنے لگا۔ سبق: سچ بولنا وقتی طور پر نقصان دے سکتا ہے، مگر آخرکار کامیابی سچائی کی ہی ہوتی ہے۔
Image
سبق آموز اسلامی کہانی: سچائی کی طاقت آج کی یہ مختصر مگر سبق آموز اسلامی کہانی ہمیں سچ بولنے کی اہمیت سکھاتی ہے۔ یہ واقعہ ایک بچے کا ہے جو ہر حال میں سچ بولتا تھا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ 1. واقعہ کا آغاز ایک دن ایک دیہاتی بچہ اپنے والدین سے رخصت ہو کر علم حاصل کرنے شہر جا رہا تھا۔ اس کی ماں نے رخصت کرتے وقت نصیحت کی: "بیٹا! ہمیشہ سچ بولنا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔" 2. ڈاکوؤں کا حملہ راستے میں کچھ ڈاکو اس بچے کے قافلے پر حملہ کرتے ہیں۔ ڈاکو ہر کسی کی تلاشی لیتے ہیں۔ جب وہ بچے کے پاس پہنچتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: "کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟" بچہ کہتا ہے: "ہاں، میرے کپڑوں میں چالیس دینار سلے ہوئے ہیں۔" ڈاکو حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ بچہ سچ کیوں بول رہا ہے؟ 3. سچائی کی برکت ڈاکوؤں کا سردار اس کی سچائی سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "اگر یہ بچہ اپنے ماں باپ کی نصیحت پر عمل کر رہا ہے، تو ہمیں بھی اپنی زندگی بدلنی چاہیے۔" اسی وقت وہ توبہ کر لیتے ہیں اور ڈاکا چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ سچائی صرف ایک اخلاقی خوب...
 یاسمین بہن #desiurdukahani میری عمر 20 سال ہے اور میری بہن یاسمین کی عمر 24 سال اور میری ماں نجمہ کی عمر 40 سال ہے ۔ میں عام لڑکوں کی طرح عام زندگی گزار رہا تھا ۔ بے حد حسن و خوبصورتی کے باوجود اپنی ماں تو دور کبھی بہن کو بھی گندی نظر سے نہیں دیکھا تھا ۔ میرے ایک دوست اسد کی بہن میری گرل فرینڈ شمع تھی جو میرے جسمانی تقاضے پورے کردیتی تھی ۔ زندگی بہت پر سکوں تھی ۔ میں میرے ایک دوست فضل کا گیسٹ ہاؤس تھا جو غیر شادی شدہ جوڑوں کو کمرے کرائے پر دیتا تھا اور رات وہاں شراب و کباب کی محفل لگتی تھی ۔ دوستی کی وجہ سے مجھے وہاں کمرہ سستے میں مل جاتا تھا ۔ شمع کی چدائی لگانے وہیں لیکر جاتا تھا ۔ پھر ایک روز معمول کی طرح میں فضل کے گیسٹ ہاؤس میں معمول کی طرح شمع کی چدائی لگا رہا تھا کہ تیسرے شاٹ کے بعد مجھے پانی کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ میں پانی کی بوتل لینے کمرے سے نکل کر نیچے ریسپشن پر آیا تو وہاں فضل کھڑا تھا ۔ اس سے ہنسی مذاق کرکے پانی کی بوتل کا تقاضا کیا تو اس نے 2 بوتلیں دی اور کہا کہ یار ایک بوتل اوپر اپنے برابر والے کمرے میں بھی دیدینا میرا ایک قریبی دوست حماد ہے اس میں اس نے ابھی کال ک...

تعلیمی اداروں میں بیٹھے پروفیسر صاحبان انتہا کے ٹھرکی ہیں

ہمارے تعلیمی اداروں میں بیٹھے پروفیسر صاحبان انتہا کے ٹھرکی ہیں. میری طرح باقی نوجوان بھی جو یونیورسٹی کے میدان سے گزرے ہیں اس بات کو بخوبی جانتے ہوں گے... ریٹ لسٹ کی طرح پروفیسر صاحبان کی بھی فہرست ہوتی ہے... نمبرز کی فہرست.... فلاں جگہ ہاتھ لگوانے کے اتنے اور فلاں جگہ ہاتھ لگوانے کے اتنے نمبر.... اور فلاں کام کے اتنے نمبر.... صبح لگنے والی لسٹ شام کو یا اگلے دن بدل دی جاتی ہے اور ڈی یا سی گریڈ حاصل کرنے والی لڑکی اس فہرست میں اے گریڈ پر ملتی ہے.... پنجاب یونیورسٹی کے بہت سارے سکینڈل دیکھ چکے ہیں آپ سب... کچھ یونیورسٹی میں ایمبولینس میں بیماری کا کہہ کر اس میں خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کو بٹھا کر رات کو پروفیسر صاحبان یا پھر شہر کے کچھ سیاستدانوں کے بستر پر پیش کیا جاتا ہے....... لڑکیوں سے مسکرا مسکرا کر بات کی جاتی ہے... پوری ٹھرک جھاڑی جاتی ہے اور لڑکوں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے.... اور پھر روتے ہیں کہ میل طلباء عزت نہیں کرتے... جو سب کچھ دیکھ رہا ہو وہ ان کی عزت کیسے کرے؟ عزت تب ملتی ہے جب برابری رکھی جائے اور میرٹ ہر فیصلہ کیا جائے... ایسے پروفیسر صاحبان بھی ہیں جو ...