Laiba Episode 9
Laiba Episode 9
میں اب ذرا ریلیکس تھی – میرے منہ سے گیلن پانی کا نکل ا ہوگا اور حلق پر سات بار چرہائی نے مجھے قے آنے کے قریب کردیا تھا-
اس نے لنڈ باہر نکال لیا اور چارپائی سے نیچے آ گیا-
میں اچھل کے کھڑی ہوگئی اور پتہ نہیں- کھانستے- الٹی کرتے پتہ نہیں کہاں جانے لگی- ایک کونے میں بیٹھ کے میں نے الٹی کی-
اھھھھھھ اھھھھھھھھ اھھھھ اگگگگگگگغغغغغغغغغغ آآ آھھھھھھھھھ- بہے بہے بہے چو- کو کو تے-
میں پتہ نہیں کیا کھتے ہوۓ اس کی طرف لپکی اور اسے تھپڑ جڑ دیا- وہ مسکرایا اور بازو سے پکڑ کر مجھے چارپائی پر پھنک دیا- میں پیٹھ کے بل گری- اس نے مجھے بازؤں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا- اور میرا سر الٹا چارپائی سے نیچے جہولنے لگا اور میرا نچلہ دھڑ چارپائی پر ہی تھا- اس نے اپنی ٹانگیں ذرہ بینٹ کر کے واپس میرے منہ میں لنڈ ڈال دیا اور اور میرا سر ھاتہوں میں پکڑ کر چودنے لگا- میرے منہ سے پانی نکلنا شروع ہوگیا جلد ہی-جو میری ناک اور آنکہوں کی طرف جا رہا تھا- وہ اس پوزیشن میں پانچ منٹ میرے منہ کو درمیانی سپیڈ سے چودتا رہا اور پھر اپنا لنڈ واپس نکال لیا-
میرا سینہ کسی دہونکنی کی طرح طل رہا تھا- اس دن میں نے نہال کی سکنگ کی تھی مگر یہ سکنگ نہی فیس فکنگ تھی-مجھے اس نے دو منٹ سانس صحیح کرنے دیا- پھر بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا-
سسسسسسسسسسسسسسسسس- میرے سر کیس سکن میں درد ہو اور سسکی نکلی – میں نے اس کا مزہ لیا اور مسکرا کے شاہو کو دیکھا-
بس؟ میں نے شاہو کو چیلنج کیا- اس نے آگے بڑھ کے میری گیلی شلوار ایک جھٹکے سے اتار دی- الاسٹک تھا آرام سے اتر گئی-
میں چارپائی پر جا کے بیٹھ گئی آور اپنی ٹانگیں کہول کے مسکرانے لگی-اور اپنا نچلا ہونٹ کاٹ لیا-
شاہو میرٰے پیروں کے سامنے گھٹنوں کے بل چارپائی پر چرہا- اور آگے آکر اپنے لنڈ کی ٹوپی میرے ھلکے گیلی چوت کے ہونٹوں پر رکھ کہ آگے کی طرف زور دیا تو اس کا لنڈ میری چوت کے دانے کو چہوتا ہوا پورا اندر چلا گیا – میری ناک درد کی وجہ سے اوپر اٹھی اور میں نے سسکی بہری- سسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسس-
شاہو نے شروعات سے ہی جھٹکے تیز دینے شروع کۓ اس کے لنڈ کی اسکن مجھے اپنی چوت کی اندرونی دیور پرر مھسوس ہورہی تہیں-
اہہہہہہہہ اھھھھھھھھھھھھھ
آہہہہہہہہہہہ
اس نے میرے پیرون کو جڑ سے پکڑ کر لنڈ کو زرہ سے میری چوت کے اندر دائیں طرف موڑ دیا اب اس کا لنڈ مجھے چوت کی دائیں طرف کی اندرونی سکن پہ فیل ہو رہا تھا-
آھستہ--- سسسسسسسسسسسسسس
اس نے میری نہ سنی اور اسی سپیڈ سے چودتا رہا-
میری گوری تانگیں اس کے کالے ھاتہوں میں جہول رہی تہیں اور میں اس کے ہر ضھٹکے سے ھل رہی تھی- اس کے ہر جھٹکے سے میرے ننہے سے ممے بھی ھل رہے تھے-
اس کا سیاہ لنڈ میری پنک لپس کو پوری طرھ بہر چکا تھا-
اور میری چوت کی سائیڈوں میں ائیر آ گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے جھٹکوں ک ساتح پچک پچک پچک کی آواز بھی آ ڑھی تھی-
وہ دس منت تک مجھے ایسے ہی چودتا رہا-
آور آخر لنڈ نکال کے لمبی لمبی سانسیں لینے لگا-
میں سیدھی لیٹ گئی-
سسسسسسسسسس آھھھھھھھھھھھھھھ
اس نے لنڈ واپس اندر گھسیڑ دیا دستے تک میری چوت ہل گئی-
اس بار اس نے اتنا زور سے چودا کہ چارپائی ھلنے لگی بری طرح- اس کے سرہانوں سے اور میرے منہ سے چیخیں نکل گئی- پہلے تکلیف کی پھر مزے کی-اس نے اسپیڈ کو کم نہ کیا
آھھھ آھھھ آھھھ حححح ھھھھھھ ححح آھھھھھھھھھھ تاھھھھھ ممممممممممممم
اس نے لنڈ کو اچانک پورا نکال کے روک دیا ----- اور زور سے اندر ایسا جھٹکا دیا- کہ چارپائی کے اوپرے پاۓ نکل گۓ اور ہم دونوں دھڑام سے نیچے گرے- نرم گدہ ہونے کی وجہ سے ہم میں سے کسی کو چوٹ نہ آئی- میری گرتے چیخ پھر ہنسی نکل گئی- شاہو کوئی پراۃ کۓ بغیر مجھے چودتا تھا- بیس منٹ تک نان اسٹاپ اس نے مجھے چودا- اھھھھھھھھھھھ میں ڈسچارج ہو گئی –اس نے محسوس کرلیا کہ میں فارغ ہوئی ہوں اور زور زور سے چودنے لگا-
آغغغغغغغغغغغ آغغغغغغغغغغغغغغغگگگ – اس کے منہ سے نکلا اور اس نے لنڈ بہر نکالا اور سپرم کے دو بڑے اور تین چہوٹے پہوارے میرے پیٹ پر ڈسچارج کۓ-
میں لمبی سانسیں لینے لگی-
ہم دونوں کئی منٹ ایسے ہی بےسدہ پڑے رہے-
اچانک اس نے مجھے بازو سے اٹھایا-
آننن ہاں ک ک کیا- میں جیسے نیند سے جاگ گئی-
الٹی ہو جاؤ-
میں جلدی سے گھٹنوں پر آگئی-
شاہو اٹھ کے میری شلوار اور دوپٹہ لے آیا-
اس نے دوپٹہ آدھا میرے منہ میں ڈالا اور شلواراس کے گرد منہ پہ باندہ دی- میں سمجھ گئی – وہ میری گانڈ مرنے والا تھا-
میں ڈوگی پوزیشن میں پھلے سے تھی- شاہو میرے پنچہے آیا اور انگوٹہے سے میری گانڈ کے سواخ کو مسلنے لگا جس کا مزہ ہن الگ تھا- اس نے ہتھیلی پر زرہ سا تہوکا اور تہوک میری گانڈ کے سوراخ پر ملنے لگا-
کچھ دیر میں اس کے لنڈ کی ٹوپی میری گانڈ کے گیٹ کو چہونے لگی-میری گانڈ کا گیٹ خودبخود بھنچ سا گیا-
آ نہیں بےبی صاحب باہر زور دو – کہولو گانڈ کو- شاہو بولا – میں نے گانڈ کو باہر پش کیا-لیکن جب شاہو لند کی ٹوپی رکھتا واپس بھنچ جاتا-
آخر شاہو نے ٹنگ آکے میری کمر کو زور سے پکڑ کے ایسا جھٹکا دیا کہ میرے پیر کے ناخنوں سے سر کے بالوں تک درد ہی درد تھا-
اااییییییییییییییییخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخخ
میری بندہے ہوۓ منہ سے چیخ نکلی-
بول رہا تھا کہولو کہولو اب جھیلو- شاہو غصے سے بولا-
ابھی تو صرف اس کے لنڈ کی ٹوپی نے میری گانڈ کو چیرا تھا- مجھے اس کہ لنڈ ایک ایک انچ مھسوس ہوا- جب تک وہ دستے تک اندر جا کر میری اوجھڑی کو اندر سے چہونے لگا- اس نے آھستہ آھستہ لنڈ انر باہر کرنا شروع کردیا-
اس کے لنڈ کی ٹوپی میرےپیٹ کے اندر شاید اوجھڑی کو لگ رہی تھی جس کی وجی سے مجھے پیٹ میں درد ہونے لگا تھا اندر سے-
گانڈ کو اس نے دس پندرہ بھت سلو جھٹکے مارے- پھر ردہم کے ساتھ انر باہر کرنے لگا-موراخ کے گرد درد ابھی اتنا شدید نہیں تھا لیکن جو اس کا لنڈ میرے اندر لگ رہا تھا وہ مجھے درد کر ھا تھا-
اس نے میری گانڈ کے گولوں کو تھپر مارنے شروع کردۓ-اور اسپیڈ ذرہ سی بڑھا دی-
میں نے منہ سے کپڑا ھٹا دیا-
آھھھھھھ تیز کرو اب درد نہیں ہو رہا- مممممممم اھھھھھھھھھھھھھ- مین نے اسے اجازت دی اور وہ اب کھڑا ہوکر میری گانڈ کی سواری کرنے لگا- مشین کی سپیڈ سے اس کا لنڈ اند باہر جا رہا تھا اور میری آواز پورے ھال میں گونج رہی تھی-
اس نے میرے منہ کو ایک ھاتھ سے بند کردیا-
انگگگگگگگگگگگغغغغغغغغغغغغ
ششششششش آھستہ باہر آواز نہ جاۓ-
میں نے سر ہلا دیا-
اب اس نے لنڈ پورا باہر نکال کے واپس ایک ھی ضھٹکے میں گھسیڑا تو میں زمیں سے ایک فٹ اوپر اچھلی-
اوئیییییییییییییییییییییییی امی جییییییییییییی
اس نے آرام سے ھاتھ میری کمر پر رکھ کی لنڈ واپس نکالا پورا – پھر واپس سارا اندر دھکیل دیا ایک زوردار جھٹکے سے
ائیییییییییییییییییییییییی ائییییییییییی ائییییییییی
اس نے ان دو جھتکوں جیسے بیس اورجھٹکے دۓ اکیسوٰیں جھٹکے سے میں اپنا بیلنس نہ رکھ سکی اور میرے گھٹنے سیدہے ہو گۓ جس سے میں زمیں پہ سیدھا لیٹ گئی- شاہو میرے اوپر گرا- مگر تیزی سا ذرہ اوپر اتھ کر میری گانڈ کو پیلنے لگا-اب مجھے درد نہیں ہو رہا تھا –میری گانڈ کھل چکی تھی-میں بس شاہو کو مزہ لینے دے رہی تھی – مجھے نہ درد ہو رہا تھا نہ مزہ آ رہا تھا-
مگر مجھے پتہ تھا شاہو –پیک کا مزہ لے رہا ہے-اور میں اتنی ظالم نہیں تھی کہ اس کا مزہ خراب کرتی-
میں آنکہیں بند کرکے اس کےگھرے تیز جھٹکے لیتی رہی- میری گانڈ کے سواخ کی سائیڈز کے گرد بہت گرمی فیل ہو رہی تھی- بھت پہنس پہنس کے شاہو کا لنڈ اندر جا رہا تھا ابھی بھی-
سسسسسسسسسس مجھے اچانک درد ہوا- شاہو کا لنڈ میری گانڈ کے اندر ئی پہولا- اور مجھے اپنے گانڈ میں اس کے پانی کے پانچ پہوارے محسوس ہوۓ-
آھھھھھھھھھ آھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھھھھھھھھ-
شاہو کے منہ سے ہر پہوارے کے ساتھ آواز نکلی-
وہ میرے اوپر ہی آگرا- اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا- پھر وہ ذرہ سا اٹھا ا- میں بھی اٹھنے لگی تو میری حیرت کی انتھا نہ رہی شاہو نے میری پیٹھ کو ھاتھ سے اٹھنے سے روک لیا-
اس سے پہلے میں کچھ کہتی شاہو نے لنڈ واپس میری گانڈ میں گھسیڑ دیا-
آھھھھھھھھھھھھھھھھھھ
اس کے منہ سے آواز نکلی- اس نے دس منٹ اور میری گانڈ ماری- اور دو اور پہورے میری گانڈ میں چہوڑے-
اور سیدھا لیٹ گیا میں اٹھ کے سائیڈ میں بھاگی- کہ پھر سے نہ شروع ہو جاۓ-وہ میرے پیچھےآیا- اور مجھے پکڑ کے دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا- اور پیچھےسے اس بار لنڈ میری چوت میں گھسیڑ دیا- اور دس منٹ تک مجھے چودنے کے بعد چوتھی مرتبہ دسچارج ہوا اور میں تیسری مرتبہ-
اس کے بعد میں کپرے پہن کر پہلی منزل والے فلیٹ کے باتھ روم میں گئی اور نھانے لگی-
مجھ سے غلطی ۃو گئی میں نے دروازہ بند نہیں کیا تھا –شاہو اندر آگیا-
اب بس شاہو میں تھک گئی ہوں- میں نے تنگ آکر کھا- مگر وہ مجھے تکتا جا رہا تھا –
بس بولا نا- میں نے غصے میں کہا- مگر وہ تکتا رہا کسی جانور کی طرح-
میں سمجھ گئی وہ نیہں مانے گا-
میں نے واش روم کی وال کی طرف پیٹھ کی اور ذرا جھخ گئی-مجھے اس کے ھاتھ اپنی گانڈ پر محسوس ہوۓ اور پھر اس کا لنڈ اپنی گانڈ کے کریک پر- اس نے ایسا زور کا جھٹکا دے کر لنڈ میری گانڈ میں پورے کا پورا گھسیڑا کہ میرے منہ سے کٹنے والی بکری جیسے آواز نکلی- وہ واش روم میں مجھے پندرہ منٹ چودتا رہا گانڈ میں میں شیشے میں دیکھ رہی تھی جیسے وہ مجھے چود رہا تھا- مجھے نیشنل جاگرافک پہ دیکھی وہ ہرنی یاد آگئی جسے شیر کھا رہا تھا- ھاشو مجھے بلکال ویسے چود رہا تھا- آکر وہ پانچویں بار میری گانڈ کے اندر ہی ڈسچارج ہوا-
میں دوبارہ نھائی اور ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر اپنی گانڈ سے اس کا پانی نکالا-
کپڑے پہن کر میں باہر آئی تو وہ کھڑا تھا-
کیا ٹائیم ہو ہے-
8 بج رہے ہیں بےبی ساب-
میں مسکرا دی – وہ واپس غلامی موڈ میں آ گیا تھا-
ٹیکسی لے آؤ- میں نے ھکم دیا وہ مؤدبانہ انداز میں سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا-
مجھے چلنے میں ذرہ تکلیف ہو رہی تھی – گانڈ میں آگ سی جل رہی تھی-
میں کرسی پر بیٹھی تو چیخ نکل گئی- آہہہہہہہہہپ جیسے ہی میری گانڈ کے گولے ذرہ خھلے تو درد کا شدید احساس ہوا- میں مشکل سے بیٹھ پائی-
تہوریس دیر بعد شاہو تیکسی لے کر آگیا- اس نے میری طرف کچھ ٹیبلیٹس بڑھائیں-
یہ کیا ہے؟
بروفن گولی درد کم کرے گی ضرور لینا-
میں مسکرا دی-
مزا آیا؟
وہ ہنس دیا سفید دانت کالی سکن پہ عجیب لگ رہے تھے-
میں واپسگھر آ گئی- امی نے پوچھا- کہاں تھی میں نے بتایا ماہم کےگھر- مجھے کوئی روکتا نہیں تھا بس امی ایک بار پوچھ لیتی تہیں ہمیشہ-
میں سیدھا کمرے میں آئی اور دوبارہ نہا کر کپڑے چینج کۓ- اور باہر آکر کھانا کھایا- سب اتنے حیران تھے ، میں نے روٹین سے آج دگنا کھایا-
میں کھانے کے بعد جلد واپس آ گئی کمرے میں، میرا بدن ٹوٹ رہا تھا- اور گانڈ کے اندرونی ایریا میں درد اور خارش ہو رہی تھی- میں نے واش روم جا کے ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کہ پش کیا تو شاہو کا بہت سا اور پانی نکلا جو میں نے باہر پش کرکے انگلی کے گرد ٹشو پیپر لپیٹ کر اس پہ ڈیٹوؒ لگایا- اور گانڈ میں انگلی کی مدد سے اندر ڈال کے صفائی کی پھر جا کے خارش ختم ہوئی مگر درد ابھی بھی تھا-میں نے سونے کی کوشش کی لیکن درد بڑھتا جا رہا تھا گانڈ میں-میں اٹھ کر الماری کی طرف گئی تو طل بھی نہ پائی درد کی ایک شدید لہر میری گانڈ کے سواخ کے اندر گذر گئی- میں نے کسی طرح پانی کی بوتل تک پہنچ کر شاشو کی دی ٹیبلیٹس کھالی اور موبائیل آف کرکے سو گئی ساری رات درد کے مارے نیند نہ آئی – رات کے آخری حصے میں شاید گولی نے اثر کیا یا نیند کا زور تھا کہ میں سو گئی-
صبح امی نے آتھایا تو جھوٹ بولا واش روم میں گر گئی تھی- گھٹنے میں درد ہو رہا ہے سکول نہیں جاؤں گی-گھر میں ھلچل مچ گئی- ابع مجھے گود میں لے کر ھاسپٹل لے گۓ میں نے بہت روکا کہ ٹھیک حو جاۓ گا وہ نہیں مانے-وہاں ایکسرے ہوا- اور کچھ بھی نھی آیا ڈاکٹر نے بتایا ھڈی تو ٹھیک ہے- مگر چوٹ کا درد ہوگا اس لۓ مجھے پین کلر انجیکشن دیا جس کے اثر سے گانڈ کا درد تقریبن ختم ہوگیا- مگر اس دن میں سکول نہ گئی-
شاہ ماہم نے فون کیا خیریت پوچھی- اور بتایا کل جواد کے کزن جنید سے ملاقات ہے ضرور آؤں- میں نے سر پہ ھاتھ رکھ دیا کل مجھے شاہو سے ملاقات کے بعد جواد کو فون کرنا چاہۓ تھا اور جنید والا پلان کینسل کرنے کا کہناچاہۓ تھا-میں نے نہال کو کال کی مگر اس کا فون بند تھا-
اب کچھ نھی ہو سکتا – میں نے سوچا ملنا تو پڑے گا جنید سے – ورنہ جواد نارض ہوگا- مگربعد میں ، میں ان سب کو اپنے پلان پر راضی کرلوں گی-
سکول پہنچتے ہی میں نے جواد سے بات کی اور اسے بتایا کہ جنید کی ہیلپ لینے کی ضرورت نہیں، مگر وہ بضد رہا کہ جنید سے اچھا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ، میں نے سوچ لیا کہ آج جنید سے مل کے دونوں آپشنز گروپ کے سامنے رکھ دیں گے اور جو سب چاہیں گے وہ کریں گے- مجھے یقین تھا کہ میں سب کو راضی کرلوں گی-
حسب مومول تین کلاسز کے بعد ہم سب کینٹین کے باہر جمع ہوگۓ،اس سے پہلے کے ہم کوئی بات کرتے منیب نے سارا سیشن ہائی جیک کرلیا،
یار، اس کمال کی جگہ کا ہم کو آج تک پتہ ہی نہیں تھا-منیب چہک کر بول رہا تھا-
کون سی جگہ- نہال نے پوچھا-
اسٹور روم- جہاں سکول کا پرانہ فرنیچر اور کاٹھ کباڑ پڑا ہے- منیب نے کہا-
ہاں تو اس کا پتہ ہے مجھے بھی-اور میں سمجھ گیا تو کیا چاہتا ہے- مگر وہاں کا رکارڈ کیپر ہے، وہ سائیں کیا نام ہے اس کا ، ہاں منظور-بہول جاؤ یہ آپشن- نہال نے تنگ سے لہجے میں کہا-
میں بھی سمجھ گئی –منیب کیا کہہ رہا ہے، وہ سٹور روم کو بریک ٹاہم میں" سیکس روم" بنانے کی سوچ رہا تھا-
ابے آئنسٹائن- پاکستان ، سب بکتا ہے یہاں- میں نے کل ہی اس کو ایک ہزار روپے دۓ ہیں اور ہر مہینے دینے کا وعدہ کیا ہے-
جواد نے جوش سے اس کے بال سہلاۓ –
کوئی آ نکلا تو – جواد بولا-
پاگل چیتا –کوئی آگیا وہاں تو؟ میں نے مخالفت کی-
کون جاتا ہی کینٹین کے پیچہے-اس بہوت بنگلے میں یار- منیب تنگ آ کر بولا-
تہوڑے سے بحش کے بعد ہم سب راضی ہوگۓ-
تو آج کون جاۓ گا- بیس منٹ بچے ہیں- جلدی کرو- منیب نے بولا-
آج بدھ ہے- ٹھیک ہے- من ڈے کو جواد جاۓ گا-ٹیوز ڈے کو میں، بدھ کو منیب کیونکہ منیب کا آیٹڈیا ہے، آج وہ جاۓ گا- اور جمعرات کو عماد- جمع اور ہفتہ بریک- نہال نے شیڈیول بنایا- جو سب لڑکوں نے منظور کرلیا-
نہال نے من ڈے اور ٹیوز ڈے ماہم کے لۓ رکھ لۓ اور وینس دے اور تہرس ڈے میجہے بزی کر لیا-
تو چلیں- منیب بے صبرا ہو رہا تھا-
پہلے تم جاؤ، لائیبہ آرام سے آنکہیں بچا کے، پھر منیب جاۓ گا، بقی ہم سب کینٹین کے پچھلے حصے پر پھرا دیں گے- نہال بولا-
میں نہ چاہتے ہوۓ بھی، آہستہ سے اٹھی، میں ان کو بتانا نہیں چاہتی تھی کل کے بارے میں اور کینٹین کے پیچھےچھپ چھپا کہ نکل گئی کیوں کہ اس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں ہوتی تھی- منیب نے بہت محفوظ جگہ ڈہونڈی تھی-
میں جھاڑیاں کود کے پرانے اسٹور کے اندر آگئی- یہاں بہت کچرا تھا، پرانی کرسیاں، الماریاں،ٹیبلز، ریکس اور لال کپٹے میں بندھٰی فائلیں- میں ایک ستون کے پیچھےکھڑے ہوگئی-
منیب دو منٹ بعد آ گیا-
یہاں شششش- میں نے اسے آوز دی تو وہ ادہر ادہر دیکھتا ہو میرے پاس آگیا-
ادہر اس الماری کے پیچہے- منیب نے قریب ہی ایک الماری کی طرف اشارا کیا- میں وہاں کھسک کے پہنچ گئی، منیب میرے پیچھےآیا-
جلدی کرو شلوار اتارو- منیب نے سرگوشی کی-
تمہارا کھڑا ہے؟ میں نے نھی سرگوشی کی-
وہیں کھڑا ہوگیا تھا- مین نے سر ہلایا اور شلوار ایک جھٹکے سے نیچے کردی جو میرے پیروں میں گر گئی اور میں نے الماری پہ ھاتھ رکھ کے کہ گھٹنوں کو بینٹ کیا-
منیب نے زپ کہول کے پینٹ سے لنڈ نکالا، واقعی میں کھڑا تھا پوری طرح-
ان نے میری قمیض کو پیچھےسے اوپر اٹھایا- اس نے ہٹھیلی پر زرا سی تہوک نکالی اور میری چوت پر ملنے لگا- مجھے اس کا گرم انگلیاں اپنے چوت کے اندر محسوس ہوئیں-
جلدی کرو- میں نے سرگوشی کی-
اس کا لنڈ کی ٹوپی میں نے اپنی چوت کے ہونٹوں پر رینگتی ہوئی محسوس کی-اور پھر ایک جھٹکے سے اندر –
سسسسسسسسسس- آھستہ- مجھے ھلکہ سا درد ہوا- اس نے ابھی آدھا لنڈ ڈاالا تھا- اس نے میری کمر پکڑ کر آھستی سے باقی لنڈ بھی اندر ڈالا- اور مزے سے چودنے لگا-
ھنننننننن نننننننننننن- اس کی سانسیں تیز ہوگئیں- مجھے اس کے لنڈ کی رگڑ اپنی چوت کی اندرونی دیواروں پر محسوس ہوئیں-
اھھھھ اھھھ اھھھ تیز کرو- میں نے کھا-
اس نے کمر کو زور سے پکڑ کے جھٹکوں کی اسپیڈ بڑھا دی- اس کے پیٹ کا نچلہ حصہ میرے گانڈ کے گولوں سے اسپیڈ میں ٹکرا رہا تھا- جس سے تھپاک تھپاک کی آواز آ رہی تھی-
اور تیززززز – اھھھھھھ اھھھھھ اھھھھھھھ- میں نے کہا- تو منیب نے مجھے ٹربو دیا- تھپاک تھپاک ٹھپاک-
انننننننن انننننننننن نننننن- میرے منہ سے یہی نکل رہا تھا-
اس نے لنڈ پورا واپس لے اسپیڈ سے اندر دھکیلا- مجھے جھٹکا لگا- انننننننننننن
پھر سے جھٹکا دیا- انننننننننن
پھر ایک-اننننننننن
پھر ایک –اننننننننن
پھر- یننننننننننننن
پھر بھت زور سے انننننننننن-
میں ڈسچارج ہو گئی-
پھر ایک اور جھٹکا- اننننننن
پھر- انننننننننننننننننننن
اس با اس نے لنڈ پاہر نکالا اور اس کا پانی گا پہوارا لنڈ باہر نکالتے ہی نکلا جو میری گانڈ پر آ لگا-
میں سیدھی ہو کے تیزی سے سائیڈ میں ہو گئی-
منیب لنڈ ھاتھ میں تھامے تھا- اس کی آنکہیں بند تھی اور نا ک سکڑی ہوئی جیسے کسی کو شدید درد ہوتا ہے-
آ آ آ ھھھھھھھھھھھھ- ان نے ایک اور پہوارا چہوڑا-
آ ھھھھھھھھ- ایک اور اھھھھھ ایک چہوٹا سا- اور ٹیبل پر بیٹھ کے لمبی سانسیں لینے لگا- میں نے پاس پڑا ہو ایک کاغذ اٹھایا اور اپنی گانڈ سے اس کا پانی صاف کیا اور اپنی چوت سے اپنا-
منیب نے جیب سے رومال نکال کے مجھے دیا- جس سے مین ںے اپنی چوت اور صاف کی اور رومال منیب کو دیا جس سے اس نے اپنا لنڈ صاف کیا-
میں نے شلوار پہن لی-
چلیں – میں نے سرگوشی کی-
ہاں-
اس نے زپ اوپر کی اور ہم جھاڑیوں کے پاس آ گۓ-
پہلے تم جاؤ-منیب نے کہا-
Comments
Post a Comment