ایک سچے فقیر کی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے، کسی گاؤں میں ایک نہایت ہی سادہ اور غریب فقیر رہا کرتا تھا۔ اس کا نام احمد تھا۔ وہ دن بھر لوگوں کے گھروں کے باہر بیٹھتا، دعائیں دیتا اور جو کچھ ملتا، شکر ادا کر کے کھا لیتا۔ لیکن وہ فقیر صرف کھانے کے لیے نہیں مانگتا تھا بلکہ لوگوں کے دکھ درد بھی سنتا اور ان کو تسلی دیتا۔
ایک دن گاؤں کے سردار کے گھر میں بیماری پھیل گئی۔ اس کی بیٹی کو ایسا بخار چڑھا جو اُترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ حکیموں نے بہت علاج کیا، لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔ جب سب ناکام ہو گئے تو کسی نے سردار کو مشورہ دیا کہ اُس فقیر احمد سے دعا کرواؤ، ہو سکتا ہے اس کی دعا سے شفا مل جائے۔
سردار نے تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد فقیر کو بلایا۔ احمد فقیر نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا، آسمان کی طرف دیکھا اور دل سے دعا مانگی۔ حیرت انگیز طور پر، اسی رات بچی کی طبیعت بہتر ہونے لگی اور کچھ ہی دنوں میں وہ مکمل صحت یاب ہو گئی۔
سردار نے خوش ہو کر احمد کو بہت سا سونا، چاندی، اور ایک خوبصورت گھر دینے کی پیشکش کی۔ مگر فقیر نے مسکرا کر کہا، "میں اس رب کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے دینے والا بنایا، مانگنے والا نہیں۔ مجھے یہ دنیاوی چیزیں نہیں چاہئیں، میرا خزانہ میرے صبر اور دعا میں ہے۔"
اس بات نے سردار کے دل کو ہلا دیا۔ اُس دن کے بعد گاؤں کے لوگ فقیر احمد کو صرف فقیر نہیں بلکہ ایک ولی ماننے لگے۔ اور احمد فقیر، اپنی سادگی، سچائی، اور نیکی کے ساتھ، ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہا۔

Comments
Post a Comment