Laiba episode 5
Laiba episode 5
اور اپنی شرٹ اتار دی۔ میں بھی کھڑی ہوگئی اور قمیض اتار دی۔
نہال نے جواد کی طرف دیکھا۔
پہلے تم کرو گے؟
نہیں کرلو، میں نے ابھی ماہم کو چودہ ہے ذرہ سافٹ ہوں- جواد نے جواب دیا۔
میں نے یونیفارم کی شلوار بھی اتار دی۔ میری چوت پہ ابھی بھی ھلکہ سا خون لگا تھا۔
نہال میری طرف بڑھا اور ہم دونوں نے سینے ملا لۓ وہ اپنے سینے کی سکن کو میرے مموں کو مسلنے لگا اور میرا چہرہ ھاتھ میں تھام کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دۓ۔
امممممممممممم وہ میرا نچلہ ہونٹ چوسنے لگا۔
وہاں عمار کی آھھھھھھھھھھھ کی آواز سنائی دی۔ وہ اپنا لنڈ ماہم کی چوت سے نکال کے اس کی گانڈ پر ڈسچارج ہو رہا تھا۔
میں نے بھی نہال کا اوپر والا ہوٹ چوسنا شروع کر دیا، اس کے ھاتھ میری گانڈ کے کے گولوں کو سہلانے لگے۔
وہ ذرہ ہونٹ میرے ہونٹوں سے ھٹا کے بولا۔
اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دو، میں نے سر ہلایا۔
اس نے جیسے ھی اپنے ہونٹ میرے ہونتوں پر رکہے میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور وہ سوفٹلی میری زبان کو چوسنے لگا۔
ہم دونوں کی آنکہیں ملیں ہوئی تھی اس کی آنکیں شرارت سے مسکرا رہی تہیں اور مزے سے میری زبان چوستا رہا۔
دو منٹ زبان موسنے کے بعد اس نے اپنا منہ ھٹا لیا۔
نیچے بیٹھ جاؤ، نہال نے بے پروائی سے کھا۔
نیچے کیوں؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔
سکنگ کروانی ہے یار اور کیا۔ وہ بولا۔
کھھیییییی وہ میں نہیں کورں گی نو وے۔ میں نے بری سی شکل بنائی۔
کم آن یار اب مزہ خراب مت کرو، نہال نے منت کی،
نن ننوووووووو۔
یار سکنگ کے بغیر چودنے کا مزہ کیا، ماہم نے بھی تو کی ہے- جواد نے ٹوکا۔
وہاں سے تم لوگ پشاب کرتے ہو نو۔ میں نے ھاتھ اٹھا کے کہا۔
ابھی تو نہیں کر رہا پیشاب میں کلین ہوں یار روز تین بار نیاتا ہوں۔ نہال بولا۔
میں انکار کرتی رہی مگر جلد ہی دونوں لڑکوں کیس ضد ماننی پڑی۔
نیال کا لنڈ سب لڑکوں سے برا تھا، اراؤنڈ 8 انچ۔
میں بے دلی سے نہال کے سامنے گھتنوں پہ بیٹھ گئی۔
اس نے میرے بالوں کی پونی ٹیل بنا کے سیدہے ھاتھ میں کس کے پکڑ لی اور اپنے لنڈ کی ٹوپی میرے ہونٹوں پہ گام نے لگا۔
منہ کہولو۔ وہ بولا۔
میں نے منہ ذرہ سا کہولا اس نے آھستہ سے اپنا لنڈ میرے منہ میں آدھا ڈال دیا جو میرے ہونٹون سے ہوتا ہوا میرے منہ میں چلا گیا۔
مین نے جاں بوجھ کے زبان نیچے کرلی اور جبڑا گرا دیا جیسے اس کا لنڈ میری زبان کو نہ لگے۔
نہال نے جلد ہی یہ بات نوٹس کرلی۔
یار پلیز لائیبہ سک تو کرو زبان سے۔۔۔
امممممم اممممممممم۔ میں نے نہ میں سر ہلایا اور اس نے پھر منت سماجت شروع کردی ، میں نے پھر ھار مان لی اور جبڑا تنگ کرکے زبان اوپر کرکے سلولی اس کا لنڈ لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی-نمکین سا تھا۔
اھھھھھھھھھھھ ۔ نہال نے سو اوپر اٹھا لیا اور اس کے گال کانپنے لگے، اسے مزہ آرہا تھا۔
دوسری طرف منیب کے لنڈ نے ماہم کی چوت کو بری طرح چیرا ہوا تھا۔
ماہم دیوارپہ ھاتھ رکھ کے اس کے جھٹکے برداشت کر رہی تھی۔
نہال نے میرے منہ کو چوت کی طرح چودنا شروع کردیا۔
اس کا لنڈ میرے منہ میں اندر باہر جا رہا تھا، بیچ میں وہ رکتا تو میں چوسنا شروع کردیتی۔
کافی دیر تک وہ مجھے فیس فک کرتا رہا پھر اپنا لنڈ میرے منہ سے نکال دیا۔
میں نے ھاتہوں سے اپنا منہ صاف کیا اور کھڑی ہو گئی،
نہال نے بینچ کی طرف دیکھا ۔
اس پہ لیٹ سکوگی؟
لیٹ تو جاؤں گی مگر چہوٹی ہے، تم پورا مزہ نہ لے سکو شاید، میں نے راۓ دی۔
ہممم تو،
ماہم والی پوزیشن لوں دیوار پر؟ میں نے مشورہ دیا۔
نہیں میں چودتے ہوۓ تمہارا چہرا دیکھناچاہتا ہوں۔
میں ھلکا سا شرما گئی۔
میں آتھالوں اسے، تم چود لو۔ جواد نے کہا۔
امممممم یہ ٹھیک ہے، اٹھالو گے ؟ نہال نے پوچھا۔
ارے چالیس کلو کی بھی نہیں ہوگی پچاس تو میں روز جم میں اٹھاتا ہوں۔ جواد مسکرایا اور میرے پاس آیا۔
میں نے ایک بازو جواد کے گلے میں ڈالا اس نے مجھے رانوں کے نیچے سے پکڑ کے اوپر اٹھا لیا۔
اھھہمممممممممم 30 سے 35 کلو۔۔ وہ بولا اور میں ہنس دی۔
اس نے ااپنے ھاتھ میری رانون کے نیچے رکھ کے میری ٹانگیں کہول دیں۔
میری چوت کے ہونٹ ٹانگیں کھلنے کی وجہ سے خودبخود کھل گۓ۔
امیں نے کونے میں دیکھا تو منیب ماہم کو زمیں پہ سیدھا لٹا کے اس کے اوپر آکے چود رہا تھا۔
نہال اپنے لنڈ پر کنڈ وم چڑھا چکا تھا۔ اس نے ھاتھ پہ تہوڑی سی تہوک لگا کر میری موت کو گیلا کیا۔ اور اپنا لنڈ میری چوت کے ہونٹوں پہ رکھ دیا۔
بے خوف کرو ، میں کھل چکی ہوں- میں نے کھا تو دونوں ؒڑکے ایک دوسرے کو دیکھ کے معنی خیز انداز میں مسکراۓ۔
سسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسس اھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ ۔ نہال نے برے برے انداز میں پورا لنڈ ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا، میری چوت کے اندرونی اکں میں درد کی لہر پھٰل گئی۔۔۔
سسسسسسسسسسس کیا ابھی تو بھت بھادر بن رہی تھی- نہال شرارت سے ہنس رہا تھا۔
اھھھھھ شٹ اپ۔
وہ ہنس کے لنڈ میری چوت میں اندر باہر کرنے لگا اس کی اسپیڈ درمیانی تھی۔
میں نے کس کے ایک بازو جواد کے گلے میں ڈالا ہو تھا، جواد بھی میری گردن پہ ھلکے سے کسز کر رہا تھا۔
کچھ دیر میں نہال نے اسپیڈ بڑھا دی۔
اس کا لنڈ میں اپنی چوت میں اندر باہر جاتے ہوۓ دیکھ سکتی تھی- جیسے ہی لنڈ باہر نکلتا چوت کے ہونٹ بند ہو جاتے اور جیسے ھی واپس اندر جاتا تو کھل جاتے۔
اھھھھھھھھھھ اھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ ممممممممممممممم۔ میری آواز کمرے میں سنائی دے رہی تھی۔
مجھے مزہ آنے لگا تھا۔
دوسری جانب منیب ڈسچارج ہو چکا تھا اس نے کنڈوم اتار کے ایک سائیڈ میں پھینک دیا۔ ماہم کپڑے پہن رہی تھی۔
نہال کا لنڈ اب میری چوت میں کسی مشین کی طرح اندر باہر جا رہا تھا۔
میں جواد کی بانہوں میں بری طرح ھل رہی تھی ، وہ بھت طاقتور تھا جو اس نے مجھے سنبھالا ہو تھا۔
منیب اور ماہم کپڑے پھن کے آگۓ اور بینچ پر بیٹھ گۓ۔
اھھھھھھھھھھھ ھھھھھننننننننن انننننننن--- منیب کی آنکھٰیں گہوم گئیں، اور اس نے چودنا بند کیا اور لنڈ کو کچھ دیر میری چوت کے اندر رکھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔۔
ایک دم سے پھر اس نے اپنا لنڈ اندر باہر کرنا شروع کردیا، میں ڈسچارج ہوگئی، آرگزم اتنا شدید تھا کہ میری آواز نہ نکال سکی صرد منہ کہلا کا کلای رہ گیا اور آنکہیں اوپر چڑھ گئیں۔
دو منٹ بعد میں دوبارا ڈسچارج ہوئیَ
نہال نے ایک زور کا جھٹکا دیا۔ میری چوت سے پچک کی آوز آئی
Comments
Post a Comment